Booster of faith
Written by
360 ME

Let’s learn source of love of Allah.
Patience.
صبر کے معنی:روکنا اور برداشت کرنا
صبر کا مفہوم :دل غم کی شدت سے پھٹا جا رہا ہوں لیکن زبان پر حرف شکایت نہ آئے۔
صبر کا انعام: تین حروف پر مبنی صبر ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جو انسانی فطرت کے منافی ہے کہ انتہائی تکلیف کے باوجود بھی زبان پر شکوہ نہ ہو ۔جب کام اتنا مشکل ہے تو کیسے ہو سکتا ہے کہ اس کا اجر بہترین نہ ہو .
اللّہ کا ساتھ:”بے شک اللّہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے” (البقرۃ:153)
اللّہ کی محبت:”اور اللّہ صبر کرنے والوں سے محبت کرتا ہے”۔ (آل عمران:146)
صبر کا بدلہ اللّہ کی محبت اور ساتھ ہے۔ جب بھی صبر کرنا مشکل ہوجائے تو سوچیں اس وقت کے صبر کے بدلے رب تعالیٰ کی محبت ملے گی۔ پھر رب کی محبت کے آگے ہر تکلیف ہیج ہے۔
صبر اسلامی تناظر میں:ان کی زندگی سے صبر سیکھتے ہیں جن کی پوری زندگی ہمارے لیے مشعل راہ ہے
:۔ابتدائی مشکلات پر صبر
جب پیارے نبی صلی اللّہ علیہ وسلم سلم نے نبوت کا اعلان کیا تو ہر کوئی دشمن بن گیا۔ اپنے ہی رشتے دار خون کی پیاسے بن گئے ۔ عزیزوں کی بے رخی ، مالی تنگی غرض ہر مشکل کا خندہ پیشانی سے سامنا کیا لیکن زبان پر کوئی شکوہ نہ آیا۔ تصور کریں عزیز رشتہ داروں کی بے عتنائی پہ صبر۔
:معاشرتی مقاطعہ پر صبر:
سرکارِ دو عالم صلی اللّہ علیہ وسلم جن کے لیے یہ کائنات تخلیق کی گئی تین سال تک کا ان کا اور ان کے خاندان بنو ہاشم (ابو اللہب کے علاوہ) کا معاشرتی مقاطعہ کیا گیا اور آپ صلی اللّہ علیہ وسلم تین سال شعبِ ابی طالب میں محصور رہے۔ ان تین سالوں میں سردار انبیاء صلی اللّہ علیہ وسلم نے ہر طرح کی مشکل دیکھی لیکن کوئی شکایت زبان پر نہ آئی۔بادشاہ نے فقر کی زندگی گزاری لیکن صبر واستقامت میں کمی نہ آئی۔
:لخت جگر کی وفات پر صبر:
کوئی خونی رشتہ کھو جائے تو صبر ناممکن ہو جاتا ہے لیکن ایسے موقع پر بھی سرکار دو عالم صلی اللّہ علیہ وسلم نے صبر کا دامن نہ چھوڑا۔اپنے بیٹے ابراہیم کی وفات پر بھی آپ صلی اللّہ وسلم کے یہ الفاظ تھے۔
“آنکھوں سے آنسو جاری ہیں اور غم سے دل ڈھال ہے پر زبان سے کہیں گے وہی جو ہمارے پروردگار کو پسند ہے اور اےابراہیم! ہم تمہاری جدائی سے غمگین ہیں۔”
Enjoyed this article?
Join 360 Muslim Experts to stay updated with the latest in technology, ethics, and Islamic innovation.
Get in Touch

