Hero of middle East.
Written by
360 ME

Let’s learn about Hazrat Saad Bin Abi Waqas (R.A)
ایمان اور محبت الہی کے کس عظیم اور قابلِ تعریف درجہ پر فائز ہوگا وہ شخص کہ جس کیلیے اللّٰہ کے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی ہو کہ:”اے اللّٰہ اس کی دعا قبول فرما جب بھی یہ دعا مانگے” اور جس انسان کی دعاؤں کی قبولیت کی دعا آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہو تو ان دعاؤں کا حصول کیسے رد ہو سکتا ہے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس انسان کو یہ شرف بخشا ہو تو بھلا اس انسان کے ایمان کی مضبوطی ،اس کی اسلام سے محبت، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جانثاری، تقویٰ کا عروج، روح کی پاکیزگی ،خلوص نیت اور خشیتِ الہی سے مالامال دل کیونکر نہ اس دنیا میں ہی جنت کی بشارت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اعزازات کا حقدار ٹھہرا ہوگا وہ۔یہ عظیم انسان حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں (595 -674ء)جو کہ حضرت سعد بن مالک بن عحیب کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔جو کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے توسل سے اسلام لانے والے ابتدائی آٹھ لوگوں میں ہونے کی نعمت سرشار ہوئے۔اسلام لانے کے عوض انھیں اپنے ہی والدین کی طرف سے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ان کے والدین انھیں سزا کے طور پر کئی کئی دن بھوکا پیاسا رکھتے۔انھیں اسلام کی نعمت سے دستبردار ہونے پر بہت مجبور کیا۔لیکن وہ اب حق آجانے کے بعد اس سے روگرداں ہونے والے نہ تھے۔ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لے گئے کہ والدین کا شرک کرنا اور حضرت سعد بن ابی وقاص کے ساتھ ظلم،ان کے ساتھ حسن سلوک کے آداب اور ان کی فرمانبرداری کے آڑے آ رہا ہے۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس مسلئہ کے موقع پر قرآن اللّٰہ نے آیات نازل کیں۔
سورہ العنکبوت:8 اور سورہ لقمان:15 میں اللّٰہ ارشاد فرماتا ہے کہ:
“اگر وہ (والدین)میرے ساتھ کسی کو شریک کرنے کے مرتکب ہوں جس کا تمہیں علم نہ ہو تو ان کا کہنا نہ مانو”
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تیر اندازی میں غیر معمولی ہنر اور کمال حاصل تھا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ پہلے عربی تھے جنہوں نے اپنے تیرکمان کے ذریعے ایک کافر کا اسلام کی راہ میں پہلا خون بہایا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس جرت کو خوب سراہا گیا اور یہ عمل کافروں کیلئے ایک واضح تنبیہ تھی کہ وہ مسلمانوں کو کمزور نہ سمجھیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جنگِ بدر میں بھی اپنے اس ہنر کے ذریعے کمال بہادری دکھائی۔ان کے بھائی حضرت عمیر بن ابی وقاص میں بھی کم عمری کے باوجود جہاد کی لگن اور شہادت کی خواہش سے اس قدر سرشار تھے کہ انھوں نے بھی جنگ میں حصہ لینے کی ضد کی۔اور جام شہادت نوش فرمایا۔ جنگ احد کے موقع پر جیسے کہ مسلمان چونکہ وقتی تذبذب کا شکار ہو گئے تھے،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس عملے میں شامل تھے جو کہ کافروں پر حملہ کر رہا تھا ،دیگر صحابہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بذاتِ خود بھی حضرت سعد کو تیر پکڑ پکڑ کر دے رہے تھے۔اس وقت آپ (ر۔ض) کی جرت اور اسلام کیلئے جانثاری دیکھتے ہوئے، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایک اور اعزاز بھی ملا۔نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ؛
“سعد تیر چلاؤ ،تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں “
(صحیح مسلم 1876/4)+(صحیح بخاری 93/6)
Enjoyed this article?
Join 360 Muslim Experts to stay updated with the latest in technology, ethics, and Islamic innovation.
Get in Touch

