انسانی نفسیات قرآن سے مطمئن ہے؟
Written by
Ali Zubair

اس کائناتِ ہست و بود میں موجودہ چاشنی ہمیشہ سے نہیں تھی یہ تمام خروشِ زیست اس امر کے بعد وجود میں آیا کہ انسان کی سرشت ہمیشہ سے متلاشی رہی ، آسمان کی وسعت سے سمندروں کی گہرائی تک چھپے رازوں کی حقیقت جاننے کے لیے انسان فلکِ زحل اور دریا بہ دریا جا پہنچا ، انسان غاروں سے نکل کر فلک پیمائی کو اڑان بھر گیا۔
انسان کی ایک کوشش اس لیے ہوئی کہ وہ اپنے ارد گرد ہونے والے تمام قدرتی مظاہر کی حقیقت کو اپنی عقل میں سمیٹ لے اور دیو مالاؤں کی من گھڑت روایتوں سے آزاد ہو جائے
کائناتی مظاہر کا آشکار شاید انسان کی پہلی ترجیح نہیں رہی ہوگی شاید انسان اس امر کو جاننے کے لیے ضرور کوشاں رہا ہوگا کہ وہ اس جہاں میں کیوں موجود ہے، اسے کس نے اور کس مقصد کے لیے بھیجا ہے ۔ان اشکال کی تلاش کے لیے انسان نے ہزاروں عقیدے دریافت کیے کئی فرضی کرداروں کو خدا بنا ڈالا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان عقیدوں پر دھول جمتی گئی کیونکہ وہ سب کہانیاں انسانی نفسیات کو مطمئن نہ کر سکیں
الجھن کے اس سفر میں عرب کے تاریک صحرا سے روشنی نمودار ہوئی جو کہ انسانی تاریخ کے تِیرہ پہلو کو روشن کر دینے والی تھی۔ پیغمبرِ خدا(ص) نے تمام بتوں کو جھٹلایا اور حقیقی خالق کا تعارف کروایا۔ یقینا باطل عقائد پر گرد کی گہری پرت جم چکی تھی اس لیے رسول (ص) کی دعوت کو شدید مخالفت کا سامنا ہوا، مگر اس دعوت کا اعجاز کسی غیر مرئی مخلوق کے باطل وجود پر مبنی نہیں تھا سو اس پیغام نے انسانی عقل پر گہری ضرب لگائی۔ انسانی عقل غور و فکر کے بعد تسلیم کر لینے کی قائل ہے سو یہ دعوت جو کہ قران کی شکل میں انسانوں کے سامنے آئی، انسانی عقل کو اپنے سحر میں مبتلا کرنے لگی۔ انسانی سرشت کے عالمگیر حقائق پر مبنی کتاب “قران” انسانی تاریخ کی واحد .کتاب ثابت ہوئی
قرآن کا اسلوب ہر دور کے ذہن سے ہم آہنگی رکھتا ہے۔ عرب کے گوار معاشرے میں قران نے ایسے فصیح اخلاقی اصول واضح کیے کہ بڑے فصاحت رکھنے والے علماء دنگ رہ گئے۔ قران انسان پر مقصد حیات واضح کرتا ہے کہ اسے دنیا کے امتحان کے بعد بارگاہِ خدا میں اپنے اعمال کا جواب دہ ہونا ہے اور اس بات کو تسلیم کرنا ذرا بھی دشوار نہیں کہ کسی بھی نظام کی کامیابی جوابدہی پر منحصر ہے۔
کسی معاشرے کا امن تبھی قائم رہتا ہے کہ انسان کے معاشرتی اور سماجی تعلقات کا بندھن مضبوط ہو۔ان تعلقات پر قران واضح تعلیم رکھتا ہے اور قریبی رشتہ داروں، ہمسایوں، غلاموں اور دوستوں کے حقوق واضح کرتا ہے ؛” نیکی اور تقوی میں ایک دوسرے کی مدد کرو (المائدہ :2)” حتی کہ جانوروں کے حقوق پر بھی بات کرتا ہے۔
عدل و انصاف کے بغیر معاشرے کا شیرازہ بکھر کر رہ جاتا ہے اور قرآن تو مکمل طور پر عدل و انصاف کی تلقین کرتا ہے۔انسانی رویے؛ معافی، شفقت اور حسن اخلاق کا درس یقینا انسان کی ضرورت ہے۔ یہ رویے اپنانے سے انسان ایک ذہنی اطمینان محسوس کرتا ہے اور قران ان رویوں پر بار بار زور دیتا ہے؛ “لوگوں سے اچھی بات کہو (آل عمران 134)” اور “لوگوں کو بھلائی کا حکم دو اور برائی سے روکو (آل عمران 104)” ان رویوں کے مثبت پہلو تو سائنسی طور پر بھی قبول کیا جا چکے ہیں۔سو کوئی بھی عقل ان اسباق کی روشنی میں قرآن کو تسلیم کرنے سے قاصر نہیں ہو سکتی۔
Enjoyed this article?
Join 360 Muslim Experts to stay updated with the latest in technology, ethics, and Islamic innovation.
Get in Touch

