Male, Female Interaction Limitations…
Written by
360 ME

"توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے ۔
یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لیے ہے ۔"
آج کے دور میں اک غلط فہمی زد عام ہے کہ اسلام اک قدامت پسند مذہب ہے اور جو اس کے سارے احکام مانتا ہے وہ دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر نہیں چل سکتا اس لیے صرف ان احکام پہ عمل کیا جائے۔جو نفس کے لیے آسان ہے حالانکہ اسلام دنیا کا سب سے خوبصورت اور جدت پسند مذہب ہے جس میں ہر احکام انسان کی فلاح کے لیے ہے اور ہر مقررہ حد انسان کے لیے اک حفاظتی تدبیر ہے لیکن ہائے مغرب کے شیدائی انسان کو یہ تدابیر قید لگتی ہیں اور اس لیے دین قدامت پسند لگتا ہے اور اپنے ہی دین کے احکامات ماننے میں شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ یہ بات اور ہے کہ جب حدود توڑنے پہ نقصان ہوتا ہے تب واپس رب العزت کے پاس ہی جانا ہے لیکن نقصان اٹھانے سے پہلے احکام نہیں ماننے یہ جاننے کے باوجود کہ ہر حکم ہماری فلاح کے لیے ہے ۔ ہے نا عجیب ڈھٹائی ۔
کسی بھی چیز کے لیے حد کیوں مقرر کی جاتی ہے ؟؟؟ تاکہ کم عقل انسان اپنی بیوقوفی کی وجہ سے اپنا نقصان نہ کر بیٹھے ورنہ آخر میں بہانہ یہی ہوتا کہ اللّٰہ نے ہمیں بتایا نہیں تھا۔ جسمانی بیماریوں سے بچنے کے لیے احتیاط کی جاتی ہے ،روحانی بیماریوں سے بچنے کے لیے کوئی تدبیر نہیں۔ آخر کیوں ؟
آج کے زمانے میں مخلوط نظام تعلیم ہے ۔ کیا دین تعلیم حاصل کرنے سے منع کرتا ہے؟ باکل نہیں!!!! لیکن کچھ حدود ہیں جن کا تعین انسان کی فلاح وبہبود کے لیے کیا گیا ہے تاکہ اس کو نقصان نہ پہنچے۔ جس رب نے پیدا کیا ہے وہ بہتر جانتے ہیں کہ انسان کے لیے کیا مفید ہے اور کیا نقصان دہ۔ اب زرا مقررہ حدود کی بات کر لیتے ہیں ۔
حدود : 1
"“اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم پرہیزگاری اختیار کرو تو نرم لہجے سے بات نہ کرو کہ جس کے دل میں روگ ہو وہ کوئی برا خیال کرے اور ہاں قاعدے کے مطابق کلام کرو ۔ “
(الاحزاب:32)"
( یعنی ازواجِ مطہراتؓ کا مقام عام عورتوں سے بلند ہے، اس لئے اگر وہ تقویٰ اختیار کریں گی تو انہیں ثواب بھی دوگنا ملے گا، اور کوئی گناہ کریں گی تو اُس کا عذاب بھی دوگنا ہوگا۔ اِس سے معلوم ہوا کہ جس شخص کو پیغمبر کے ساتھ جتنا قرب ہو، اُسے اپنے عمل میں اُتنا ہی محتاط ہونا چاہئے۔
Enjoyed this article?
Join 360 Muslim Experts to stay updated with the latest in technology, ethics, and Islamic innovation.
Get in Touch

