Media creating filthy minds
Written by
360 ME

Role of media in promoting vulgarity
آج کے فتنہ پروری کے دور میں بے حیائی اور عریانی عروج پہ ہے ۔ فحاشی کو گھر گھر پہنچانے میں ہمارا میڈیا اک قوی کردار ادا کر رہا ہے ۔ مسلمانوں کو تباہ کرنے کے لیے کتنی تحریکیں متحرک ہیں اور یہ ڈائریکٹ وار نہیں کرتی بلکہ آہستہ آہستہ ان چیزوں پہ وار کر رہی ہیں جن کی وجہ سے اک مسلمان مسلمان کہلاتا ہے۔ مسلمانوں کا اک سب سے بڑا ہتھیار حیا ہے ۔ اس لیے مسلمانوں کی حیا پہ وار کیا جا رہا ہے کہ کسی طرح مسلمانوں میں حیا ختم ہو جائے ۔ حیا اور ایمان لازم و ملزوم ہیں ۔ اگر حیا نہ ہو تو ایمان بھی نہیں رہتا ۔ ایمان نہ ہو تو کیا مسلمان باقی رہتا ہے ؟؟؟ یعنی اک مسلمان کو ختم کرنا اتنا آسان ہے کہ حیا ختم کر دو اور مسلمان برباد۔ جب ایمان ہی نہ ہوگا تو اک خالی جسم غیر اسلامی تحریکوں کا کیا بگاڑ لے گا۔
"حضرت عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہما سے روایت ہے ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اللّٰہ تعالیٰ جب کسی آدمی کو تباہ کرنا چاہتا ہے تو اس سے حیا کو چھین لیتا ہے ۔ اور جب اس سے حیا چھین لیتا ہے تو تجھے وہ شخص نا پسندیدہ اور قابل نفرت محسوس ہوتا ہے ۔ جب وہ ناپسندیدہ اور قابل نفرت ہو جاتا ہے تو اس سے دیانت داری چھین لی جاتی ہے ۔ جب اس سے دیانت داری چھن جاتی ہے تو تو اسے خائن اور خیانت میں مشہور دیکھتا ہے ۔ جب وہ خائن اور خیانت میں مشہور ہو جاتا ہے تو اس سے رحم دلی چھن جاتی ہے ۔ جب اس سے رحم دلی چھن جاتی ہے تو تو اسے لعنتی اور لوگوں سے اس پر لعنتیں پڑتی دیکھتا ہے ۔ جب تو اسے لعنتی دیکھے اور اس پر لعنتیں پڑ رہی ہوں تو اس کی گردن سے اسلام کا قلادہ اتر جاتا ہے ۔
(ابن ماجہ:4054)"
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ میڈیا ایسا کون سا وطیرہ استعمال کر رہا ہے کہ مسلمانوں میں حیا ختم کر دی جائے ۔ جواب بہت واضح ہے ۔ اک دم سے کسی انسانی دماغ کو کسی غیر اخلاقی چیز میں نہیں پھنسایا جاسکتا ہے اس کے پیچھے اک مکمل پلاننگ ہوتی ہے ۔
سب سے پہلے تو اک چیز کے بارے میں تجسّس عام کیا جاتا ہے ۔ تجسّس کے عالم میں دیکھ لیا ہے یہاں ابھی حیا بھی زندہ ہے اور ضمیر بھی تو یہاں سے واپسی ممکن ہے۔
اگلا مرحلہ ہوتا ہے کسی چیز کی عادت میں مبتلا کرنا کہ اگر کوئی انسان تجسّس کے عالم میں دیکھ لے تو اس کو مزید تجسّس ہو ۔ اس تجسّس کو ہوا دینے کے لیے غیر اخلاقی چیزوں کو فنٹیسائز کیا جاتا ہے ۔ مختلف ذریعوں سے ترسیل کی جاتی ہے ۔ معاشرے میں عام کیا جاتا ہے تاکہ اگر اک انسان دیکھے تو اس کو برائی برائی نہ لگے ۔ اس طرح بار بار دیکھنے سے انسان عادت میں مبتلا ہو جاتا ہے اور عادت جان لیوا ہوتی ہے ۔
اگلا مرحلہ ہوتا ہے لت لگنے کا کہ انسان اس غیر اخلاقی چیز کے بغیر رہ نہ سکتا ۔ زرا غور کریں کہ انسانی دماغ کو جکڑا کیسے جا رہا ہے ۔
اب اگلا سوال یہ ہے کہ اک غیر اخلاقی چیز کو معاشرے میں عام کیسے کیا جائے۔ اس کا جواب بھی بہت سادہ ہے کہ اس غیر اخلاقی بات کو رواج بنا دیا جائے ۔ رواج بن جائے گا تو ہر شخص دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملانے کے چکر میں اس چیز میں مبتلا ہوگا اور جو نہیں کرے گا اس کو تنگ نظر سمجھا جائے گا اب تنگ نظر تو کوئی نہیں لگنا چاہیے گا نہ ۔
Enjoyed this article?
Join 360 Muslim Experts to stay updated with the latest in technology, ethics, and Islamic innovation.
Get in Touch

