مزارات : شرک کے کارخانے؟؟
Written by
Hira Zahoor

اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ " ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں" (سورہ الفاتحہ ؛4)
اس آیت کا ہماری روزمرہ کی زندگی میں جتنا اہم کردار ہے اتنا ہی ہم اسے روزمرہ کے کاموں میں بھول جاتے ہیں ۔ہر نمازکی ہر رکعت میں اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اللّٰہ ہم بس آپ کی عبادت کرتے ہیں اور صرف آپ سے مدد طلب کرتے ہیں ،صرف آپ ہی ہمارے مددگار ہیں۔اس بات کا اعتراف گویا آپ کی نماز کو مکمل کرتا ہے ،کیونکہ جب تک صورت فاتحہ نہیں پڑھیں گے نماز نہیں ہوگی ،اور صورت فاتحہ اس بات کا اعتراف کیے بغیر نامکمل ہے ۔لہذا یہ محض عربی کی ایک آیت نہیں کہ بس زبان سے بول دیا اور حق ادا ہو گیا ۔اس اقرار کے بعد بحثیت مسلمان ہم پر لازم ہے کہ بس اسی کو ہی مدد کے لیے پکاریں ،بس اسی کی عبادت کرتے ہوئے خودکو اسکی رضا کے سامنے جھکا دیں ۔لیکن المیہ اس بات کا ہے کی ہم نے اسے محض ایک آیت ہی سمجھا ،جسے ہر رکعت میں بس زبان سے ادا کر دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس کے فلسفے کو ہم نے پورا کر دیا ۔اسی نا واقفیت کا یہ عالم ہے کہ ہر رکعت میں اس کے مددگار ہونے کا اقرار اور اعتراف کے باوجود ہم دوسروں سے مدد مانگتے ہیں۔اس کا سب سے بڑا مظاہرہ اولیاء کرام کے دربار اور قبروں پر ملتا ہے۔وہ اولیاء کرام جو خودساری زندگی بس اللّٰہ سے مدد مانگنے کا درس دیتے رہے ،ہم انہی اولیاء کرام سے ان کے مزاروں اور قبروں پر جا کر ان سے مدد طلب کرتے ہیں ۔کیا یہ منافقت نہیں ؟؟
لوگو ، ایک مثال دی جاتی ہے ، غور سے سنو ۔ جن لوگوں کو تم اللّٰہ کے سوا پکارتے ہو وہ سب مل کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو نہیں کر سکتے ۔ بلکہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو وہ اسے چھڑا بھی نہیں سکتے ۔ مدد چاہنے والے بھی کمزور اور جن سے مدد چاہی جاتی ہے وہ بھی کمزور ۔ (سورہ الحج:73)
اپنے اردگرد معاشرے میں زرا نظر دوڑائیں ، آپ کو بہت سارے ایسے لوگ ملیں گے اور دکھائی دیں گے جنہوں نے مزاروں کو سجدہ گاہ بنا لیا ہے ۔اپنی مشکلات انھیں جا کر بتاتے ہیں اور اس امید کے ساتھ کہ وہ مسائل حل کر دیں گے،اور یہ صورت حال اور انتہا پسندی اس موڑ پر چل پڑی ہے کہ لوگ شرکیہ کلمات تک بول دینے سے گریز نہیں کرتے (نعوذباللہ)
اور یہ مناظر اولیاء کرام کے مزارات اور مقابر پر ان کے عرس اور یومِ وصال کے موقع پر واضح نظر آتے ہیں ۔اور یہ مناظر اولیاء کرام کے مزارات اور مقابر پر ان کے عرس اور یومِ وصال کے موقع پر واضح نظر آتے ہیں ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
خبردار ! تم سے پہلے لوگ اپنے انبیاء اور نیک لوگوں کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا کرتے تھے ، خبردار ! تم قبروں کو سجدہ گاہیں نہ بنانا ، میں تم کو اس سے روکتا ہوں”
(صحیح مسلم:532)
کتنی واضح انداز میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ،لیکن موجودہ دور میں یہ ہماری قوم کی دین سے دوری کی ایک نمایاں دلیل ہے کہ ہمیں معلوم ہی نہیں کہ کیا صحیح ہے کیا غلط،کسی چیز کا حکم دیا گیا ہے اور کس سے منع کیا گیا ہے ۔
Enjoyed this article?
Join 360 Muslim Experts to stay updated with the latest in technology, ethics, and Islamic innovation.
Get in Touch

