فلسطین تنازعہ اور بین الاقوامی کردار
Written by
Ali Zubair

اگر کوئی سمجھتا ہے کہ وہ جنگ کے ذریعے امن لا سکتا ہے تو شاید یہ ایک نادانی ہے۔ انسانی تاریخ جنگوں سے بھری پڑی ہے اور کئی اوراق معصوموں کے خون سے لہو لہو ہیں۔ دور حاضر میں بھی انسانیت اس عذاب سے جان نہیں چھڑا پائی۔ ہر فرد اور قوم کے مفادات ہی جنگ کے لیے چنگاری ثابت ہوتے ہیں چونکہ جنگ کے دوران ہر فرد خود کو حق پر سمجھتا ہے تو وہ دوسرے کی شکست کو ہی فیصلہ کن جانتا ہے اسی سبب قوموں کو کئی دہائیوں تک جنگوں کا سامنا رہا ہے
موجودہ دور میں کئی ممالک میں جنگ کے اثرات مسلسل نظر اتے ہیں مگر ان میں نمایاں فلسطین میں جاری جنگ کا تنازعہ ہے۔ کئی دہائیوں سے معصوم لوگوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔ بچے، بوڑھے ،جوان، عورتیں کوئی بھی ان مفادات کی آتش کی زد سے نہیں بچ پایا۔ اس جنگ کے سلسلے میں مختلف عالمی اقوام بالخصوص مسلم اور عرب قوم کا رویہ قابل ذکر ہے۔
١٩٧٤ میں فلسطینی سرزمین پر انٹرنیشنل فورم کی جانب سے اسرائیلی وطن بنانے کی اجازت دی گئی جس پر عرب ممالک نے شدید احتجاج کیا کیونکہ یہ اقدام ان کو عرب ممالک اور اسلام کی عظمت پر حملے کے مترادف لگا۔ اسی سلسلے میں عرب ممالک بشمول مصر ، اردن اور سعودی عرب ، نے اسرائیل پر حملہ کر دیا اس جنگ میں مغرب ممالک نے اسرائیل کا بھرپور ساتھ دیا اور عرب کے حملے کو ناکام بنا دیا۔مغربی ممالک نے اس تنازے میں ہمیشہ اسرائیل کی طرف پلڑا جھکائے رکھا اور ابھی تک نیشنل اسمبلی میں حماس کے خلاف جنگ کو جاری رکھنے پر قرارداد پاس کی گئی
شکست کے باوجود عرب ممالک اسرائیل کو کسی صورت قبول نہ کرنے پریکجا ہوئے۔ اور جا بہ جا اسرائیل کو مٹانے کے لیے حملے کرتے رہے مگر کہیں سے کسی کامیابی کی بجائے کچھ اور علاقے بھی اسرائیل کے قبضے میں چلے گئے جس سے لاکھوں فلسطینیوں کو بے گھر ہونا پڑا۔ وقت کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سیاست کا اونٹ دوسری کروٹ بیٹھنے لگا جس سے ممالک کی دلچسپیاں بھی بدلنے لگی۔
اردن کا ایک بڑا حصہ اسرائیل کے بارڈر کے ساتھ لگتا تھا۔مغرب میں تجارت کا رجحان بڑھ رہا تھا تو اردن کی حکومت نے بھی تجارت کی غرض سے مغرب کے سامنے گھٹنے ٹیکے اور اسرائیل کے خلاف تمام تر جذبات جیو پولیٹکس کی نظر کر دیے اور اردن نے بھی اسرائیل کو قبول کر لیا اسی دوران یہ معاہدہ طے پایا کہ فلسطین سے ہجرت کر کے آنے والے فلسطینی لوگ یہاں اردن کی قومی شناخت کو قبول کریں گے نہ کہ وہ اس سرزمین کو فلسطین کا حصہ سمجھیں گے۔
مغرب میں تجارت کی کھپت نے ممالک کی دلچسپی کو اپنی طرف کھینچا،ہر قوم کو مستحکم مستقبل مغرب کی تجارت میں نظر آ رہا تھا اسی دستور پر عمل پیرا ہو کر دوسرے ممالک یو اے ای، سوڈان اور ترکی نے بھی جلد ہی اسرائیل کو ایک قومی وطن کے طور پر قبول کر لیا۔
یوں ممالک کا رجحان اسرائیل کی طرف بڑھتے دیکھ کر یو-این نے سعودی عرب کو بھی اسرائیل سے تعلقات کی پیشکش کر دی اس کے جواب میں سعودیہ نے چند معاہدوں کی یقین دہانی چاہی کہ؛ مغرب انہیں بیرونی حملوں سے بچاؤ کے لیے سیکیورٹی دے، جدید ٹیکنالوجی اور نیوکلیئر پروگرام بھی مہیا کرے۔ ان معاہدوں پر کام جاری ہے اور آنے والے وقتوں میں سعودیہ بھی اسرائیل کو قبول کرتا نظر آتا ہے۔
Enjoyed this article?
Join 360 Muslim Experts to stay updated with the latest in technology, ethics, and Islamic innovation.
Get in Touch

