Reservoir of knowledge.
Written by
360 ME

Let’s learn about Hazrat Ali (R.A)
ہمارے چوتھے ہیرو ہیں صاحب نحج و البلاغہ، شیرِ خدا، حضرت علی المرتضیٰ ۔ آپ کا لقب حیدر، کنیت ابو عبداللہ اور ابو تراب تھی۔ آپ کے والد ماجد جناب ابی طالب آپ صلی الله عليه وسلم کے حقیقی چچا تھے۔ آپ نجیب الطرفین ہا شمی تھے۔ حضرت علی حضرت عثمان کی شہادت کے بعد چوتھے خلیفہ منتخب ہوئے۔آپ کی حیاتِ جاودانی کے چند پہلو درج ذیل ہیں
۔۱۔ ابو تراب کی کنیت روایت میں آتا ہے کہ حضرت علی حضرت فاطمہ سے ناراضگی پر مسجد میں لیٹے تھے۔ اس دوران کچھ مٹی آپ کے بدن پر لگ گئی۔ آپ صلی الله عليه وسلم مسجد میں تشریف لائے اور فرمایا اے ابو تراب اٹھ ۔ تب سے یہ کنیت مشہور ہو گئی. آپ اس نام کو بہت پسند فرماتے تھے اور جب کوئی آپ کو ابو تراب کہہ کر پکارتا تو بے ساختہ خوشی کا اظہار کرتے۔ ۲
۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زیرِ سایہ کفالت :مکہ مکرمہ میں قحط آن پڑا۔ حضرت ابی طالب کا خاندان کافی وسیع تھا اور ان کے معاشی حالات اچھے نہیں تھے۔ حضرت محمد صلی الله عليه وسلم نے حضرت عباس کو مشورہ دیا کہ چچا کی مدد کے لیے ان کے بچوں کی کفالت کی جائے۔ چنانچہ حضرت علی کی کفالت آپ صلی الله عليه وسلم نے اپنے ذمے لےلی۔ ۳
۔ قبولِ اسلام آپ نے نبی کریم صلی الله عليه وسلم اور حضرت خدیجہ کو عبادت میں مشغول دیکھا تو ان سے اس کے متعلق استفسار کیا۔ آپ صلی الله عليه وسلم کے بتلانے پر کچھ دیر میں اسلام قبول کیا۔ اس وقت آپ کی عمر دس برس تھی۔ جب کبھی نبی کریم صلی الله عليه وسلم عبادت کے لیے کسی تنہا گوشے میں تشریف لے جاتے تو حضرت علی وہاں پہرہ دیا کرتے تھے ۔۴
۔ امانتوں کا رکھوالا:آ پ صلی الله عليه وسلم کو مدینہ ہجرت کا حکم آ چکا تھا۔ قریش مکہ نے آپ صلی الله عليه وسلم کو قتل کرنے کا (نعوذ باللہ) منصوبہ تیار کیا تھا۔ اس موقع پر آپ صلی الله عليه وسلم کے پاس بہت ساری امنتیں جمع تھیں۔ آپ صلی الله عليه وسلم نے وہ امانتیں حضرت علی کے حوالے کیں اور انہیں سب لوگوں کو لوٹا کر مدینہ آنے کی تلقین کی۔ اس طرح آپ نے جانثاری کی عمدہ نظیر قائم کی۔۵
۔ مواخاتِ مدینہ: آپ صلی الله عليه وسلم نے مدینہ میں مہاجرین اور انصار کے درمیان یھائی چارہ قائم کیا لیکن حضرت علی کو کسی کا بھائی نہیں بنایا۔ جب حضرت علی آپ صلی الله عليه وسلم کی خدمت میں مدعا لے کے داخل ہوئے تو آپ نے انہیں اپنا بھائی بنا لیا۔
۶۔ شجاعت و بہادر یآپ شجاعت و بہادری میں بے مثال تھے۔ اس وجہ سے آپ کو شیرِ خدا بھی کہا جاتا تھا ۔ آپ کی تلوار ذوالفقار کی ایک جھنکار دشمن پر ہیبت طاری کرنے کے لیے کافی تھی۔ آپ کی بہادری کی چند جھلکیاں ذیل میں ہیں غزوہ بدر کے موقع پر جب مسلمان اور کفار کے لشکر صف آرا ہوئے تو کفار کی جانب سے عتبہ، شیبہ اور ولید میدان میں آئے۔ ان کے مقابلے میں مسلمانوں کی جانب سے حضرت حمزہ، حضرت عبیدہ بن ابی حارث اور حضرت علی آئے۔ حضرت علی کا مقابلہ ولید سے ہوا اور آپ نے اسے جہنم واصل کر دیا۔غزوہ احد کے موقع پر آپ نے ابو سعد بن ابی طلحہ سے مقابلہ کیا اور اسے جہنم واصل کیا۔ بعد میں جب مسلمانوں کو وقتی پسپائی ہوئی تو کفار کی جماعت نے آپ صلی الله عليه وسلم کو گھیر لیا اور آپ صلی الله عليه وسلم اوجھل ہوئے۔ حضرت علی نے تلوار سونتی اور جو کافر رستے میں آیا اسے ہٹایا اور آپ صلی الله عليه وسلم تک پہنچ گئے اور آپ صلی الله عليه وسلم کو گھیرے میں لیے تمام کفار کو انجام تک پہنچایا۔ اس موقع پر آپ صلی الله عليه وسلم نے فرمایابےشک علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں آپ غزوہ بدر الموعد ، حمرۃالاسد ، بنی نضیر اور بنی مصطلق میں اسلامی لشکر کے علم بردار تھے۔غزوہ احزاب کے موقع پر ایک جگہ خندق کی چوڑائی کم تھی اور عمرو بن عبدود اسے پھلانگ کر مسلمانوں کی صفوں میں گھس آیا۔ عمرو طاقتور پہلوان تھا۔ اس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ پورے گھوڑے کو اٹھا کر پٹخ سکتا تھا۔ اس نے مسلمانوں کو للکارا اور خضرت علی آگے بڑھے اور سخت مقابلے کے بعد اس کو شکست دی۔غزوہ خیبر کے موقع پر آپ صلی الله عليه وسلم نے اپنی زرہ انہیں پہنائی اور ذوالفقار عطا کی۔ مرحب جو یہودی تھا سے مقابلے کے دوران آپ نے یہ رجز پڑھا۔”میں وہ ہوں کس کا نام میری ماں نے حیدر رکھا ہے جھاڑی کے شیر کی طرح مہیب اور ڈراؤنا میں دشمنوں کو نہایت تیزی کے ساتھ قتل کر دیتا ہوں”۷
Enjoyed this article?
Join 360 Muslim Experts to stay updated with the latest in technology, ethics, and Islamic innovation.
Get in Touch

