Solution of corruption at national levels is by resolving the corruption at local levels
Written by
360 ME

"“بے شک اللّٰہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں”
(سورہ الرعد:11)"
آج کل معاشرہ اس دہانے پر آ پہنچا ہے کہ ہم خود ہی اپنے آپ کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ ہرطرف افراتفری کا عالم، مہنگائی کا سیلاب، افلاس کی ہوائیں ،اور بے پناہ معاشی ،سماجی، اخلاقی اور مذہبی مسائل۔۔۔۔۔آخر کیوں….؟کون ہے اس سب کا ذمہ دار…؟ کس کی نااہلی ہے اس صورتحال کی وجہ…؟
بے ساختہ سب کی زبان سے ایک طرح کے کلمات سننے کو ملیں گے۔ “کہ حکومت نااہل ہے،نظام ٹھیک نہیں ہے ،کرپشن کر کے ملک کو لوٹا جا رہا ہے،عوام کا پیسہ کرپشن کی زد میں ہے،
یہی سب وجہ ہے،حکمران صحیح نہیں ہیں، ملک چلانا نہیں آتا”
بس…..؟؟؟
ہماری شکایتیں دوسروں سے شروع ہو کر دوسروں پر ہی ختم ہو جاتی ہیں۔ ہر کوئی چاہتا ہے کہ دوسرا بدل جائے، دوسرا اپنے اپنے آپ کو ٹھیک کر لے تو سب ٹھیک ہو جائے۔ اور اسی نظریہ کے پیشِ نظر ہر کوئی دوسرے کے بدلنے اور ٹھیک ہونے کہ انتظار میں ہے۔خود کو بدلے بغیر،سب کی یہی خواہش ہے کہ حالات بدل جائیں۔
اب مثلاً کرپشن کے عناصر کو ہی دیکھ لیں۔ ہم چاہتے ہیں حکومت ٹھیک ہو جائے، کرپشن نہ کرے، تو ملک سنور جائے گا۔ جب کہ ہر انسان کسی نہ کسی صورت میں، کسی نہ کسی دائرے کار میں،کسی نہ کسی طریقے میں کرپشن کر رہا ہے،جس کو جتنی رسائی اور جتنا موقع ملتا ہے وہ کرپشن کر رہا ہے۔ لیکن ۔۔۔!،لیکن شکایت صرف کس سے ہے؟۔۔کہ حکمران کرپشن کر رہے.
یہ شکایت کبھی دور نہیں ہو سکتی کیونکہ ہم خود تو کرپشن چھوڑ نہیں رہے ،نہ خود کو بدلیں گے، حکمران کیوں رکیں کرپشن سے۔ جب ایک ریڑھی لگانے والا مزدور تک کرپشن نہیں چھوڑ رہا۔جب پھل و سبزیاں وغیرہ فروخت کرتے وقت وہ گلے سڑے پھل صاف پھلوں کے نیچے چھپا کر چلاکی سے بیچ رہا ہے،تو پھر اسی ریڑھی پر کھڑا ہو کے وہ یہ شکایت کیوں کر رہا ہے کہ ملک میں کرپشن بہت ہو رہی،حکمران اپنی زمہ داریاں نہیں ادا کر رہے ،انصاف اور ایمانداری کا تقاضا کس بنیاد پر آخر جب وہ خود بے ایمانی کر رہا ہے۔کیا اس کا خود کا عمل کرپشن نہیں ہے….؟
ایک دکاندار کو ناپ تول میں کمی کرتے وقت اپنی کرپشن یاد نہیں آتی ،جب اسے اسی وجہ سے قومِ شعیب پر آنے والے عذاب کا خیال نہیں رہتا، جب خراب مال فروخت کرتے وقت اسے اللّٰہ بھول جاتا ہے، جب ایک مزدور اپنے کام کو پورا کئے بغیر اپنی اجرت پوری لیتا ہے ،جب ایک ٹیچر اپنے پڑھانے کے وقت کو پوری طرح طلبا پہ صرف نہیں کرتا اور تنخوا پوری وصول کرتا ہے،جب ایک طالب علم اپنی پڑھائی کے وقت کو فضول کاموں میں صرف کر تا ہے اور اپنے والدین سے پڑھائی کے لیے جیب خرچ پوری لیتا ہے، جب معاشرے کا ہر ہر فرد اپنی اپنی زمہ داری ادا کرنے میں کرپشن میں لگا ہوا ہے تو پھر شکایت صرف اور صرف حکومت سے کیوں…؟
یاد رکھیں کہ جب ایک قوم اللّٰہ کی نا فرمانی کو مول لے چکی ہوتی ہے تو اللّٰہ ناراضگی کی صورت میں اس قوم پر ظالم اور نااہل حکمران مسلط کر دیتا ہے ۔یہی ہمارے اعمال ہی ہیں جس کی بنا پر نااہل حکمران اور ان کا کرپشن کی صورت میں ظلم و ستم عوام پر مسلط
Enjoyed this article?
Join 360 Muslim Experts to stay updated with the latest in technology, ethics, and Islamic innovation.
Get in Touch

