جس نے کسی قوم کے ساتھ مشاہبت اختیار کی،اس کا تعلق اسی قوم سے سمجھا جائے گا
Written by
Hira Zahoor

کس قدر واضح الفاظ میں اللّٰہ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہمیں ہر اس چیز سے آگاہ اور متنبہ کر دیا ہے جو کہ ہمارے ایمان کو کسی بھی شکل میں نقصان پہنچا سکتی ہے ۔جو کوئی مسلمان کسی ایسے عمل کا ارتکاب کرے گا یا اس میں شامل ہوگا جو کسی اور قوم کا اصل و رسوخ رہا ہو تو وہ اسی قوم کا فرد سمجھا جائے گا۔ اس کا مطلب واضح ہے کہ اگر کوئی کسی کافر کے کیے گئے عمل کی پیروی کرتا ہے تو وہ کافر سمجا جائے گا۔ اتنی نازک صورتحال ہے اور ہم ہیں ہیں کہ آج کل کے فتنہ پرور دور میں اپنی شناخت کو فراموش کرتے ہوئے ،اپنے ایمان کو خود اپنے ہاتھوں سے روند کر محض چند لمحوں کے لیے محظوظ ہونے کی غرض سے ہر وہ تہوار ،ہر وہ فنکشن ،ہر وہ رسم ،ہر وہ طریقہ اپنائے ہوئے ہیں جو کہ غیر مسلم قوموں کا طرز رہا ہے۔اپنے ایمان ،اسلام ،تہذیب ،ثقافت غرض کسی بھی چیز کی پرواہ کئے بغیر ہمیں بس اپنی خوشی ،اپنا نفس، اپنی ذات اور اپنے دل کی تسکین اور اپنے آپ کو ماڈرن دکھانے کی پڑی ہے۔
کتنی ہی ایسی فضولیات کو ہم نے روزمرہ کا حصہ بنا لیا جو کہ غیر اسلامی ہیں،کتنی ہی ایسی رسومات کو ہم نے شادی جیسی مقدس سنت کا حصہ بنا لیا ہے جن کی بنیاد ہندوانہ ہے۔
کالج اور یونیورسٹیوں میں منعقد کئے جانے والے مخلوط فنکشن ،کنسرٹ ،کلر پارٹی کے نام پر منائے جانے والی ہولی، انتہا کی بے پردگی، محرم نا محرم کی تمیز تو جیسے اب کوئی معنی نہیں رکھتی۔
ہمیں صرف تفریح سے غرض ہے۔ بس تفریح ہو جو نفس کی تسکین کے لیے ہو اس کے لیے اخلاقی اقدار پامال ہوں ، دین کی حدود پامال ہوں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ایسا ہی اک تہوار ہالووین ہے اس کا پس منظر پتہ نہیں ہے بس منانا ہے ، اپنے تہوار ہم سے منائے نہیں جاتے تب ہمیں میچیورٹی یاد آجاتی ہے لیکن مغرب کی تقلید ضرور کریں گے چاہے اس کے لیے اپنی پہچان ہی کیوں نہ کھو دیں۔ مغربی تہواروں کی اندھا دھند تقلید میں ہم کیوں بھولتے جا رہے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں ، ہم اللّٰہ اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے ہیں ۔کیا صرف مسلمان نام رکھنا ہمارے لیے بخشش کا سامان کر دے گا جب کہ جگہ جگہ دنیا کے مراحل میں ہم نے غیر اسلامی چیزوں کو آخرت پر فوقیت دی ہو۔۔۔؟ قرآن بار بار ہمیں آگاہ کر رہا ہے نتیجے سے لیکن ہم بس اپنے نفس کے غلام ہیں،جو وہ کہے گا ہم وہی کریں گے۔ کیا یہ آیت کافی نہیں کہ؛
"کچھ لوگ وہ ہیں جو اللّٰہ سے غافل کر دینے والی باتوں (یعنی مثلاً موسیقی کے آلات وغیرہ) کے خریدار بنتے ہیں تاکہ ان کے ذریعے لوگوں کو بے سمجھے بوجھے، اللّٰہ کے راستے سے بھٹکائیں،اور اس کا مزاق اڑائیں۔ ان لوگوں کو وہ عذاب ہوگا جو ذلیل کر کے رکھ دے گا
(سورہ القمان:6)"
گانا بجانا ،سننا ،گانا،غرض میوزک کی چاہے کوئی بھی شکل ہو ،وہ تو اب گناہ سمجھا ہی نہیں جاتا، بہت ہی کم چیزیں ایسی ہونگی جن میں میوزک نہ شامل ہو،یہاں تک کہ اب تو نعتیہ کلام میں بھی موسیقی اپنا مقام بنا رہی ہے۔جب کوئی گناہ ،گناہ سمجھا ہی نہ جانے لگے تو اس سے بچاؤ اور اس پر توبہ کیسے ممکن ہے۔۔۔!؟
Enjoyed this article?
Join 360 Muslim Experts to stay updated with the latest in technology, ethics, and Islamic innovation.
Get in Touch

