Islamic System vs Democracy
✍️ Ayesha SarfrazDoctor of Physical Therapy
Loading article...
✍️ Ayesha SarfrazDoctor of Physical Therapy
Loading article...
دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی انسان نے اپنے اجتماعی معاملات کو محض عقلِ ناقص یا خواہشاتِ نفس کی بنیاد پر چلانے کی کوشش کی، وہاں ظلم، ناانصافی اور انتشار نے جنم لیا۔
انسان نے مختلف نظامِ حکومت تراشے جیسے بادشاہت، آمریت، اشتراکیت اور جمہوریت سب آزمائے، مگر حقیقی عدل و انصاف صرف وہی نظام فراہم کر سکتا ہے جو خالقِ کائنات کی وحی اور ہدایت پر مبنی ہو۔
اسی لیے اسلامی نظام کو جمہوریت سمیت تمام خود ساختہ نظاموں پر برتری حاصل ہے۔
اسلامی نظامِ حکومت قرآن و سنت کی تعلیمات پر مبنی ہے۔
اس کا مرکز اللہ کی حاکمیت ہے، یعنی حاکمیتِ اعلیٰ صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے۔
إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ (یوسف: 40)
ترجمہ: حکم صرف اللہ کا ہے۔
اس نظام میں سربراہِ مملکت بھی اللہ کے احکام کا پابند ہے۔ وہ اپنی مرضی یا عوامی خواہش کے مطابق نہیں بلکہ شریعت کے مطابق فیصلے کرتا ہے۔
یہاں انصاف امیر و غریب، حاکم و محکوم سب کے لیے یکساں ہے۔
جمہوریت کا دعویٰ یہ ہے کہ اقتدار عوام کا ہے، عوام کے لیے ہے اور عوام کے ذریعے ہے۔
بظاہر یہ نعرہ دلکش ہے لیکن حقیقت میں یہ انسان کو اللہ کی بندگی سے نکال کر انسان کی بندگی میں جھونک دیتا ہے۔
جمہوریت میں قانون سازی کا حق عوامی نمائندوں کو دیا جاتا ہے جو اکثر اپنے مفاد، پارٹی سیاست یا وقتی حالات کے مطابق فیصلے کرتے ہیں۔
یوں اکثریت کی بنیاد پر حق و باطل کا معیار طے کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، حالانکہ اکثریت ہمیشہ حق پر نہیں ہوتی۔
وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللهِ (انعام: 116)
ترجمہ: اگر تم زمین کے اکثر لوگوں کی پیروی کرو گے تو وہ تمہیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں گے۔
اسلامی نظام میں قانون سازی کا حق صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے مخصوص ہے۔
انسان اپنی رائے صرف اجتہاد اور مشاورت کی حد تک دے سکتا ہے، وہ بھی قرآن و سنت کی روشنی میں۔
جمہوریت میں پارلیمنٹ قرآن و سنت کو نظر انداز کر کے بھی قوانین بدل سکتی ہے۔
اسلامی نظام میں مقصد عدلِ مطلق کا قیام ہے، جبکہ جمہوریت میں مقصد عوامی خواہشات کی تکمیل ہے۔
اسلامی نظام میں حکمران کو جواب دہی اللہ کے سامنے کرنی ہے، جب کہ جمہوریت میں وہ محض ووٹروں کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے۔
اسلامی نظام اور جمہوریت کا تقابل بتاتا ہے کہ جمہوریت انسانی خواہشات پر مبنی ہے، جبکہ اسلامی نظام الہی ہدایت پر۔
ایک طرف جمہوریت ہے جس میں حق و باطل کا فیصلہ ووٹوں سے ہوتا ہے، اور دوسری طرف اسلام ہے جس میں فیصلہ قرآن و سنت سے ہوتا ہے۔
مسلمان قوم اگر اپنی کھوئی ہوئی عظمت دوبارہ حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسے جمہوریت کے قریب سے نکل کر اسلامی نظام کو اختیار کرنا ہوگا۔
یہی وہ راستہ ہے جو عدل، امن اور فلاحِ حقیقی کی ضمانت دیتا ہے۔